ابنا: ايران کے وزير خارجہ علي اکبر صالحي نے پير کي شام جدہ ميں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ايران اسلامي تعاون تنظيم او آئي سي ميں کسي بھي ملک منجملہ شام کي رکنيت معطل کئے جانے کا مخالف ہے -وزير خارجہ نے کہا کہ او آئي سي ميں شام کي رکنيت معطل کئے جانے کا يہ مطلب ہرگزنہيں نکلتا کہ ممبر ممالک شام کے بحران کو حل کرنے کي جانب آگے بڑھ رہے ہيں بلکہ اس کا مطلب اصل معاملے کو ہي پس پشت ڈال دينا ہے –وزير خارجہ صالحي نے کہا کہ سبھي ملکوں خاص طور پر اسلامي ممالک کو چاہئے کہ وہ باہمي تعاون اور اتحاد کے ذريعے شام کے بحران کو پرامن طريقے سے حل کريں جس سے علاقے ميں استحکام قائم ہوسکے –اس درميان قطر کے الجزيرہ ٹيلي ويژن چينل نے جو شام ميں دہشت گردوں کي حوصلہ افزائي اور تقويت ميں اہم رول ادا کررہا ہے پير کي رات اپني بريکنگ نيوز ميں اعلان کيا کہ او آئي سي کے ممبر ملکوں کے وزرائے خارجہ نے جدہ اجلاس ميں اس تنظيم ميں شام کي رکنيت معطل کردي ہے –ايران کے وزير خارجہ نے کہا کہ شام کا بحران ايک حقيقت ہے ليکن سبھي ملکوں اور اداروں کو چاہئے کہ وہ اس کے حل کے لئے کام کريں جبکہ اسلامي ملکوں کي سب سے زيادہ ذمہ داري ہے کہ وہ علاقے ميں امن و استحکام کے لئے کوشش کريں -
.......
/169